Skip to main navigation

Menu Indonesian

  • Home
  • Biografi
    • Biografi
    • Khotbah Jumat
    • Medali Kehormatan
    • Gelar Doktor Kehormatan
    • Penghargaan dan Penghormatan
    • Disertasi Doktor
  • Komunikasi Global
    • Apresiasi terhadap Beliau
    • Konferensi
    • Kunjungan Resmi
  • Berita
    • Berita terbaru
    • Liputan Pers Global
    • Penerimaan dan Rapat Tamu
  • Inisiatif Global
    • Pengabdian Islam
    • Pengabdian Perdamaian Dunia
    • Inisiatif Kemanusiaan
  • Media
    • Kutipan
    • Video
    • Infografis

رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس سے عزت مآب استاذ فیصل بن عبد الرحمن بن معمر کے خطاب سے اقتباسات

Breadcrumb

  • Beranda
  • رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس سے عزت مآب استاذ فیصل بن عبد الرحمن بن معمر کے خطاب سے اقتباسات
خادم حرمین شریفین کی زیر سرپرستی مکہ مکرمہ میں مسجد حرام کے زیرِ سایہ اجتماع سے،عزت مآب استاذ فیصل بن عبد الرحمن بن معمر، کا رابطہ کانفرنس سے خطاب Januari 3, 2019

رابطہ عالم اسلامی کی کانفرنس سے عزت مآب استاذ فیصل بن عبد الرحمن بن معمر کے خطاب سے اقتباسات

عزت مآب استاذ فيصل بن عبد الرحمن بن معمر سیکرٹری جنرل شاہ عبد اللہ سینٹر برائے بين المذاهب وثقافت رابطہ وحدت اسلامی"گروہ بندی اور مخالف کو دور کرنے کے خطرات"کانفرنس خطاب سے اقتباسات

عالمِ اسلام کے علماء، مفکرین اور رائے عامہ ہموار کرنے والوں کے ایک بہت بڑے حصے کا یہاں موجود ہونا، باعثِ خوشی ہے.

قومی اتحاد پر، فرقہ واریت اور عدم برداشت کے خطرات کے پیش نظر، کانفرنس کا یہ موضوع اہم اور ضروری ہے.

رابطہ عالمِ اسلامی مختلف اسلامی مذاہب اور اجزاء کے اس غیر معمولی عدد کو جمع کرنے کے لئے قابلِ فخر ہے.

اگر انسانی تاریخ ہمیں کچھ سکہاتی ہے، تو اس کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ تعدد، تنوع اور اختلاف معاشرے میں کبھی مسائل نہیں رہے.

تنوع اور اختلاف کسی بھی شکل میں مسئلہ نہیں رہے، بلکہ ہمیشہ دینی، مذہبی اور ثقافتی اختلاف، معاشرے میں قابلِ حل مسائل رہے.

قومی ڈھانچے میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنے، اور معاشرے کی اس کے تمام عناصر اور صلاحیتوں کے تجربوں سے افزودگی کیلئے ہمیں تنوع اور تعدد کو مثبت ذرائع میں بدلنا چاہئے.

تنوع اور اختلاف کے مظاہر کا  فرقہ واریت اور عدم برداشت کے اسلحہ سے مقابلہ کرنا، آگ پر تیل چھڑکنے کے مانند ہے، جو بیمار ذہن کا عمل ہوسکتاہے، جس کا مقصد ہی فتنہ برپا کرنا او رنمایاں مؤثر شخصیات کی دشمنی ہے.

محاذیں، تنازعات، گروہ بندیاں اور حریف دھاروں اور نظریات میں تقسیم، معاشرتی امن کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں.

قومی ریاست ہی وہ قانونی فریم ہے، جو معاشرے کے تمام افراد کو، ایک چھتری کے نیچے جمع کرتاہے، اور انہیں کسی طرح کی وابستگی اور خیالات دیکھے بغیر،حقوق کی فراہمی اور فرائض سونپتاہے.

منفی گروہ بندیاں اور عدمِ برداشت، شہریت کے اصول اور قومی ریاست کے استحکام کیلئے، براہِ راست خطرہ ہیں.
 

Inisiatif

  • Inisiatif Kemanusiaan
  • Pengabdian Islam
  • Pengabdian Perdamaian Dunia
  • Infografis
  • Video

tautan

  • Penghargaan dan Anugerah
  • Medali Kehormatan
  • Gelar Doktor Kehormatan
  • Liputan Pers Dunia
  • Khotbah Jumat

Komunikasi

  • Kunjungan
  • Kepribadian
  • Liputan Media Global
  • Konferensi
  • Kunjungan Resmi

العربية |  Français | English  | اردو | Indonesian | Español | فارسي

Seluruh Hak Cipta Dilindungi untuk Situs Web Syekh Dr. Mohammed Al-Issa © 2026