آئینی، قانونی اور ثقافتی اختلافات کو سمجھ کر اور ان کی رعایت رکھتے ہوئے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ہم ایک لائن کھینچیں اور سب سے تقاضہ کریں کہ جامع شہریت کا بس یہی تصور ہے اور اس کے علاوہ ہر تصور اس کے مفہوم سے خارج ہے۔
آئینی، قانونی اور ثقافتی اختلافات کو سمجھ کر اور ان کی رعایت رکھتے ہوئے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ہم ایک لائن کھینچیں اور سب سے تقاضہ کریں کہ جامع شہریت کا بس یہی تصور ہے اور اس کے علاوہ ہر تصور اس کے مفہوم سے خارج ہے۔