سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی دی اکنامسٹ میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے:
” غزہ کا بحران محض ایک علاقائی تنازع نہیں، بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے دل و دماغ کی جنگ ہے؛ جو اگر آج فیصلہ کن اخلاقی قیادت نہ پائی، تو تضحیک اور نفرت کی نذر ہو جائے گی۔“
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی پہلی بین الاقوامی کانفرنس ” اسلامی مکاتب فکر کے درمیان پلوں کی تعمیر“ سے:
” اسلامی مکاتب فکر کو سب سے زیادہ اس مشترکہ موقف کی ضرورت ہے جو انہیں متحد کرے، نہ کہ تقسیم کرے؛ اور یہ وحدت مشترکہ اسلامی اساس کے ذریعے ممکن ہے۔ اور کوئی بھی چیز شہادتین، ارکانِ اسلام، اور دیگر ثوابتِ دین سے زیادہ جامع اور واضح نہیں ہو سکتی، جن پر عمل اور جن کے تقاضے سب کے مابین وحدت کا باعث بنتے ہیں۔“
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی بلقان کی علاقائی کانفرنس کے دوران سرائیوو اعلامیہ میں:
” برداشت، بقائے باہمی اور امن کوئی اختیاری چیز نہیں کہ چاہیں تو اپنائیں اور چاہیں تو ترک کر دیں؛ بلکہ یہ ہمارے عالمی امن اور قومی معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ایک ناگزیر ضرورت ہیں۔“
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی قاہرہ یونیورسٹی میں ” مشرق اور مغرب کے درمیان فکر میں نئی پیش رفت“ کے عنوان سے یادگاری لیکچر میں:
” مطلق آزادیوں کا تصور، ہمارے عالمی امن اور قومی معاشرتی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، بالخصوص جب وہ تہذیبی تصادم کو بھڑکانے کا باعث بنیں۔“
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی مکہ مکرمہ میں منعقدہ 48 ویں حج کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے:
” شرعی رخصتیں ہمارے اسلامی تشریعی نظام کی خوبصورتی اور امتیازی خصوصیات میں سے ہیں، کیونکہ غالب تعریف کے مطابق رخصت وہ شرعی حکم ہے جو اصل حکم سے ہٹ کر، کسی خاص حالت میں ایک رعایتی حکم کی صورت اختیار کرتاہے تاکہ مکلف کو آسانی فراہم کی جاسکے ۔“
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی پاکستان کے شہر اسلام آباد میں شاہ فیصل مسجد کے منبر سے:
” کتنے ہی مسلمان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے قول سے پہلے اپنے فعل سے اللہ کی طرف بلانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اور کتنے ہی مسلمانوں نے اپنے عظیم اسلامی اخلاق کے ذریعے اپنے دین کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کیا اور جاہلوں اور بدنیتی پر مبنی عناصر کا مؤثر مقابلہ کیا ۔ دوسروں کی نظر میں یہی ان کے دین کی حقیقی تصویر ہے۔“
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی آسیان علماء کونسل کے افتتاح کے بعد ایشیائی میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے:
” ہم ہر اُس آواز کا خیرمقدم کرتے ہیں جو دنیا میں امن اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے بلند ہو۔ ہم سیاسی جرائم، جیسے غزہ کی خونریز جنگ، اور اہلِ ادیان کے درمیان فرق کرتے ہیں، بشرطیکہ وہ جرائم کے خلاف ہوں۔“
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی البانیہ کے عظیم تاریخی جامع مسجد کے منبر سے:
”نیکی، جیسا کہ ہمارے نبی اور سردار حضرت محمد ﷺ نے بیان فرمائی، خوش اخلاقی کا نام ہے۔ یہ بلند اسلامی اقدار میں سے ایک ہے؛ ایسا خلق جو کبھی نہیں بدلتا، نہ مذہب کے اختلاف سے، نہ رنگ سے، اور نہ کسی اور سبب سے۔ مسلمان کے اخلاق، رحمت اور فضل کے پروں پر پرواز کرتے ہیں۔“
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی البانیہ کے عظیم تاریخی جامع مسجد کے منبر سے:
”نیکی، جیسا کہ ہمارے نبی اور سردار حضرت محمد ﷺ نے بیان فرمائی، خوش اخلاقی کا نام ہے۔ یہ بلند اسلامی اقدار میں سے ایک ہے؛ ایسا خلق جو کبھی نہیں بدلتا، نہ مذہب کے اختلاف سے، نہ رنگ سے، اور نہ کسی اور سبب سے۔ مسلمان کے اخلاق، رحمت اور فضل کے پروں پر پرواز کرتے ہیں۔“
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی، مہاجرین کی امداد کے لیے معروف ترین کشتی کے دورے کے دوران، اس موقع پر بین الاقوامی ریڈ کراس، ہلال احمر، اور اطالوی ریڈ کراس کے سربراہان بھی موجود تھے:
”یہ دورہ دنیا کے سب سے المناک ساحلوں میں سے ایک، صقلیہ کے ساحل پر واقع مہاجرین کی سب سے بڑی امدادی کشتی کا معائنہ ہے۔ ہم یہاں میدانِ عمل میں، زمینی حقائق، ضروریات اور رپورٹس کی تصدیق کے لیے موجود ہیں۔“
نام نہاد سیاسی اسلام کے نظریات اسلاموفوبیا کی متعدد وجوہات میں سرفہرست ہے، جہاں اس نے عظیم مذہب کو ایک تنگ نظر سیاسی مقصد تک محدود کرکے اپنے لئے جھوٹا لباس بُن کر اسے اسلام کی طرف منسوب کیا۔
نام نہاد سیاسی اسلام نے مشرق اور مغرب کے درمیان تہذیبی تصادم میں اضافہ کیا ہے اور یہ اسلاموفوبیا رجحان کی متعدد وجوہات کا ذمہ دار ہے ۔
مذہبی تشخص اور قومی تشخص ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ وہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔ہمارے مذہب میں امن وہم آہنگی کا مطالبہ، عہدوپیمان کی تکمیل ، دلوں کو جوڑنے اور مصالح ومفاسد کو دیکھنے کا حکم ہے۔