آج ہمیں جامع شہریت پر وسیع تناظر میں مکالمہ کی ضرورت ہے کیونکہ ایک ایسی جہت بھی موجود ہے جو اس کی تفصیلات اورکڑیوں سے ناواقف ہے۔
نام نہاد سیاسی اسلام کے نظریات اسلاموفوبیا کی متعدد وجوہات میں سرفہرست ہے، جہاں اس نے عظیم مذہب کو ایک تنگ نظر سیاسی مقصد تک محدود کرکے اپنے لئے جھوٹا لباس بُن کر اسے اسلام کی طرف منسوب کیا۔
خادم حرمین شریفین کے زیر سرپرستی اور ان کے ولی عہد کے تعاون سے تیار شدہ میثاق مکہ مکرمہ کی بائیسویں شق میں جامع شہریت کے بارے میں ایک روشن تناظر پیش کیا گیا ہے اور ایک مخصوص شق میں خواتین کو مشروع طور پر مکمل بااختیار بنانے کی اہمیت پر زوردیتے ہوئے اسے جامع شہریت کا ستون قراردیاہے۔
آج ہمیں نسل پرستی اور ا س کی جہالت کا سامناہے، اور یہ صرف پسماندہ ممالک میں نہیں پھیل رہی ہے بلکہ ان ممالک میں جڑ پکڑ رہی ہے جو درجہ بندی میں پہلی دنیا میں شمار ہوتے ہیں۔ اس تہذیبی پسماندگی کے بعد بہتر مادی ترقی ممکن نہیں ہوپائی ہے۔
آئینی، قانونی اور ثقافتی اختلافات کو سمجھ کر اور ان کی رعایت رکھتے ہوئے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ ہم ایک لائن کھینچیں اور سب سے تقاضہ کریں کہ جامع شہریت کا بس یہی تصور ہے اور اس کے علاوہ ہر تصور اس کے مفہوم سے خارج ہے۔
جامع شہریت ایک قومی اور عالمی تقاضہ ہے جس کے لئے اس کی تمام تفاصیل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔اس میں ہر ملک کے قوانین اور ثقافت میں اس کی خود مختاری کوتسلیم کرتے ہوئے اس کی آئینی اور قانونی اختلافات کو مدنظر رکھنا ہوگا،جب کہ بین الاقوامی قوانین اوراصول اور مشترکہ انسانی اقدار کا احترام سب کے لئے ضروری ہے ۔
سیاسی مباحثے اپنے واضح اہداف کے ساتھ اور فکری رجحانات اپنی انتہاپسندانہ سوچ کے ساتھ اقوام اور ممالك کے مابین مفاہمت اوراخلاقی مکالمے کی منطق سے تجاوز کرگئے ہیں۔
آج ہمیں جامع شہریت کے اقدار اور اصولوں کو یاد دلانے سے زیادہ، اس کی چیلنجز اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
”نصاب تعلیم میں ابتدائی کلاسوں میں"مؤثر انداز"میں یہ راسخ کرنے کی ضرورت ہیکہ تنوع اورتعددیت دنیا کی حقیقت ہے.اور یہ- اپنے مثبت فریم ورک میں-انسانیت کے لئے ایسی ثروت ہے جو خوشحالی واتحاد میں اضافے کا باعث بنے گی“۔
"ہمارے مشترکہ اقدار، ہمارے انسانی بھائی چارے کی گہرائی اور باہمی تعاون کی حوصلہ افزائی کا ثبوت ہیں۔ اخوت انسانی کے معنی پر عمل درآمد سے ہمارے درمیان سے رکاوٹیں دور، خلاء پرُ،پلوں کی تعمیر اور انسانی مشترکات پر کا م کرنے میں ہمارے عزم کو تقویت ملتی ہے جو ایک فطری قانون ہے۔"
کورونا کی عالمی وبا نے عبادات، عائلی قوانین اور معاملات میں ایسے ناگزیر مسائل پیدا کئے جن کے حل کے لئے علمائے کرام کا ایک غیر معمولی فورم میں سر جوڑنا ضروری تھا۔ اس اہم اجتماع میں دنیا بھر کے علمی اداروں، فقہی اکیڈمیز اور جید علمائے امت نے شرکت کی، تاکہ یہ مسائل ابہام اور فکری الجھنوں کی نذر ہونے کے بجائے واضح علمی رہنمائی کے ساتھ حل ہو سکیں۔
انسانی ہم آہنگی، بقائے باہمی اور انسانی وقار کی بقا کے لیے ایک لازمی ضرورت ہے۔ جب ہم ایک دوسرے کی مذہبی، مسلکی، ثقافتی اور (عمومی فکری )خصوصیات کو سمجھتے اور قبول کرتے ہیں، تو ہم حکمت و دانش اور تہذیب و تمدن کے اعلیٰ درجے پر فائز ہو جاتے ہیں۔