عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی نے ڈاؤس فورم کے مرکزی مکالمے میں شرکت کی۔ اس سیشن کا عنوان ”تنازعات میں مذہبی قائدین کی اخلاقی ذمہ داری“ تھا۔
تازہ ترین خبریںآج صبح ڈاؤس فورم 2026 میں:
سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر #محمد_العیسی نے ڈاؤس فورم کے مرکزی مکالمے میں شرکت کی۔ اس سیشن کا عنوان ”تنازعات میں مذہبی قائدین کی اخلاقی ذمہ داری“ تھا۔
ڈاکٹر العیسی نے اپنے خطاب میں مسئلہ فلسطین کے پرامن حل اور دو ریاستی فارمولے پر عمل درآمد کے لیے نیویارک اعلامیہ کی بھرپور تائید وحمایت پر زور دیا۔ یہ اعلامیہ گزشتہ جولائی میں مملکت سعودی عرب اور جمہوریہ فرانس کی سربراہی میں منعقدہ اعلیٰ سطحی عالمی کانفرنس میں جاری کیا گیا تھا، جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 142 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے ایک عادلانہ اور حکیمانہ انتخاب کے طور پر منظور کیا ہے۔
آب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذہبی قائدین کے لیے اس حقیقت کا ”سچا“ اور ”عملی“ ادراک ناگزیر ہے کہ انسانی زندگی اور وقار کا تحفظ، بشمول جانوں، حقوق اور جائز آزادیوں کی حفاظت،ایک ایسی اعلیٰ قدر ہے جو بطور عمومی اصول ہر انسان کا حق ہے۔
آپ نے ظلم واستبداد کے لیے جواز تراشنے والے ہر طریقے کی مذمت کرتے ہوئے اسے حاصل کسی بھی قسم کے مبینہ تحفظ یا تقدس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ آپ نے واضح کیا کہ ایسی صورتحال میں خاموشی اختیار کرنا "غیر جانبداری" نہیں بلکہ "ملی بھگت" کے مترادف ہے۔ انہوں نے ظالمانہ جنگوں کو بھڑکانے یا جائز حقوق غصب کرنے کے لیے مذہبی نصوص کے غلط استعمال کو بے نقاب کرنے پر زور دیا۔
قتل وغارت گری کے المیوں پر گفتگو کرتے ہوئے آپ نے کہا: ”کسی بھی نص کو قتل کے جواز کے لیے سیاق وسباق سے کاٹ کر پیش کرنا اس نص کے ساتھ خیانت ہے“۔
مزید فرمایا: ”انصاف ناقابلِ تقسیم ہے، اور انسانی وقار ورحم دلی کے معاملے میں پسند و ناپسند کی کوئی گنجائش نہیں“۔
ڈاکٹر العیسی نے مزید کہا: ”دوسروں کو انسانیت کے درجے سے گرانا ہر انسانی المیے بلکہ عالمی افراتفری کی جانب پہلا قدم ہے۔ معصوم خون کی ایسی کوئی درجہ بندی نہیں ہے جو کسی ایک کو دوسرے سے برتر قرار دے“۔
آپ نے کہا: ”سچے مذہبی قائدین طاقت کے ترجمان نہیں ہوتے، بلکہ وہ فضیلت وانصاف کے محافظ اور مکالمے وامن کے داعی ہوتے ہیں“۔