ڈاؤس فورم 2026 کی جانب سے مذہبی اور فکری شرکت کے اختتامی خطاب کے لیے سیکرٹری جنرل عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی کا انتخاب
تازہ ترین خبریںڈاؤس فورم 2026 کی جانب سے مذہبی اور فکری شرکت کے اختتامی خطاب کے لیے سیکرٹری جنرل رابطہ اور چیئرمین مسلم علماء کونسل، عزت مآب شیخ ڈاکٹر محمد العیسی کا انتخاب:
ڈاکٹر العیسی نے ”عشائیہ نشست“ کے دوران—جس میں سالانہ بنیادوں پر نامور محققین، مفکرین اور تحقیقی مراکز کے نمائندے شرکت کرتے ہیں—دنیا بھر میں رابطہ عالم اسلامی کے متعدد کامیاب اقدامات، پروگراموں اور تجربات پر روشنی ڈالی۔
عزت مآب نے ان نمایاں ماڈلز کا جائزہ لیا جن کے مثبت اور واضح اثرات مرتب ہوئے، جن میں رابطہ کا وہ اقدام بھی شامل ہے جس کا اقوام متحدہ نے اپنے نیویارک ہیڈکوارٹر میں خیر مقدم اور حمایت کی تھی، جس کا عنوان تھا: ”مشرق اور مغرب کے درمیان مفاہمت اور تعاون کے پلوں کی تعمیر“۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا جامع بین الاقوامی اقدام تھا جس کے عملی پروگراموں کا مقصد ”تہذیبی تصادم“ کے ان تصورات کی تصحیح کرنا تھا جو نفرت انگیزی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرناک اثرات کا بنیادی سبب بنے۔
عزت مآب نے زور دے کر کہا کہ اسلام—بنیادی طور پر عقیدہ توحید ہونے کے ساتھ ساتھ—ایک جامع نظامِ حیات بھی ہے جو ایک ایسے اخلاقی فریم ورک پر مبنی ہے جو انسان کو ایک معزز اور اپنے تمام اقوال، افعال اور انتخاب کا ذمہ دار وجود قرار دیتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اسلامی تعلیمات اس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ انصاف سماجی استحکام، انسانی وقار اور حقوق کے تحفظ کی بنیادی قدر ہے، جس میں نسل یا مذہبی وابستگی کی بنیاد پر کسی بھی قسم کی تفریق کی گنجائش نہیں۔
عزت مآب نے مزید واضح کیا کہ ”اسلامی وژن کی گہرائی میں رحمت ایک مرکزی انسانی قدر کے طور پر موجود ہے، جو انسانوں اور ان کے مابین اختلافات کے ساتھ ایک اخلاقی اور متوازن سلوک کی راہ دکھاتی ہے“۔ انہوں نے مثالوں کے ذریعے واضح کیا کہ” اسلام امن اور رواداری کو صحت مند انسانی تعلقات کی بنیاد قرار دیتا ہے، اور بقائے باہمی کو استثنا نہیں بلکہ اصل اصول سمجھتا ہے“۔
عزت مآب نے فرمایا: ”اسی بنیاد پر، اسلام ان مشترکہ انسانی اصولوں سے ہم آہنگ ہے جنہیں دورِ حاضر کی دنیا نے اپنایا ہے، جیسا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس سے نکلنے والے بین الاقوامی قوانین، روایات اور اصولوں میں موجود ہے، جو انسانی وقار کے تحفظ، تعلقات کی درستی اور کردار کی شائستگی پر زور دیتے ہیں، اور جنہیں اسلام نے ’مکارمِ اخلاق کی تکمیل‘ کے اصول کے تحت واضح کیا ہے“۔
آپ نے بتایا کہ رابطہ عالم اسلامی نے مختلف اسلامی مکاتبِ فکر کے درمیان فاصلے ختم کرنے اور دنیا کے مذہبی، نسلی اور ثقافتی تنوع کے ساتھ تعامل کے حوالے سے اسلام کے روشن تہذیبی نقطہ نظر کو واضح کرنے پر کام کیا ہے۔ اس کے علاوہ خاندان، تعلیم، ماحول، شہریت اور بقائے باہمی جیسے اہم موضوعات پر ”میثاق مکہ مکرمہ“ کے ذریعے رہنمائی فراہم کی گئی، جس کی مکہ مکرمہ میں 1200 سے زائد علمائے کرام اور مفتیان عظام نے منظوری دی، اور بعد ازاں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے 57 رکن ممالک نے اسے اپنایا۔ نیز ”اسلامی مکاتب فکر کے درمیان پل قائم کرنے کا چارٹر“ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جس کے تحت دنیا بھر میں بڑی تعداد میں ائمہ کرام کو ان دونوں دستاویزات کے مندرجات پر تربیت دی جا رہی ہے۔
عزت مآب نے مزید کہا کہ ”میثاق مکہ مکرمہ اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ مسلمان اس دنیا کے تہذیبی تعامل کا ایک فعال حصہ ہیں اور وہ انسانیت کی بھلائی کے لیے تمام طبقات کے ساتھ رابطے کے خواہاں ہیں۔ عقائد، ادیان اور مکاتبِ فکر کا فرق ایک آفاقی حقیقت ہے، اور تمام انسان اپنی انسانیت میں برابر اور ایک ہی اصل سے تعلق رکھتے ہیں“۔
آپ نے اشارہ کیا کہ اس میثاق نے ”تہذیبی مکالمے“ کی اہمیت پر توجہ دلائی ہے، جو ایک متنوع دنیا کے مابین مفاہمت، مشترکات کی تلاش اور پرامن بقائے باہمی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو عبور کرنے کا بہترین راستہ ہے۔ اس میثاق نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ ادیان اور مکاتبِ فکر اپنے پیروکاروں یا مذہب کا نام لینے والوں کی غلطیوں یا جرائم سے بری الذمہ ہیں، اور انفرادی غلطیوں کو مذہب سے جوڑنا قطعی طور پر جائز نہیں۔
عزت مآب نے اپنے خطاب کے اختتام پر امن پسند اداروں کے مابین عالمی یکجہتی کی اہمیت پر زور دیا، تاکہ موثر مشترکہ اقدامات اور پروگراموں کے ذریعے اقوام کے درمیان دوستی اور تعاون کو فروغ دیا جا سکے، جن کے اثرات کی پیمائش اور انہیں پائیدار بنیادوں پر ترقی دینا ممکن ہو۔